کیا لڑکیاں اپنے گھروں میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہیں

*🌹کیا لڑکیاں اپنے گھروں میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہیں🌹*

*کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان کرام مسئلے ذیل میں کہ لڑکیاں اپنے گھروں میں جماعت سے نماز نہیں پڑھ سکتی ہیں یا نہیں*

*🌹المستفتی : انیس القادری🌹*

◆ــــــــــــــــــ✦🛸✦ــــــــــــــــــ◆

*👇🏻👇🏻الـــــجــــــــــوابـــــــــــ👇🏻👇🏻*
*عورتوں کا مردوں کے علاوہ الگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض فقہا مکروہ کے قائل ہیں*
*جیسا کہ صاحبِ ہدایہ نے تحریر فرمایا ہے کہ*
*ويکره للنساء أن يصلين وحدهن الجماعة . . . فإن فعلن قامت الإمامة وسطهن " اھ*
*یعنی اکیلی عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی امام صف کے درمیان میں کھڑی ہوگی " اھ*

*📕 ( مرغيناني، الهداية ج 1 ص 84 )*

*📄 اور رد المحتار علی الدر المختار میں ہے کہ*
*ویکرہ تحریماً جماعة النساء ولو فی التراویح ویکرہ حضورهن الجماعة ولو لجمعة إلخ*

*📚( رد المحتار علی الدر المختار ج 2 ص 305 : باب الإمامة)*

*🏷لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ لڑکیاں اپنے گھروں بھی تنہا تنہا نماز پڑھے کیونکہ ان جماعت مکروہ ہے ۔*

*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*

◆ــــــــــــــــــ✦🛸✦ــــــــــــــــــ◆

*✍شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*۳۰ دسمبر بروز سوموار ۲۰۱۸*
*📞+917666456313*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے