سُبْحَانَ اللّٰه کے 3 فضائل
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
’’سُبْحَانَ اللّٰہ‘‘ کے 3 فضائل درج ذیل ہیں :
*(1)* حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’جس نے ایک دن میں سو مرتبہ ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھا ،تو اس کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کی مثل ہوں۔
*(بخاری، کتاب الدعوات، باب فضل التسبیح، ۴ / ۲۱۹، الحدیث: ۶۴۰۵)*
*(2)* حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’ جس نے ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ‘‘ کہا تو اس کے لئے جنت میں ایک درخت اُگا دیا جاتا ہے۔
*( ترمذی، کتاب الدعوات، ۵۹-باب، ۵ / ۲۸۶، الحدیث: ۳۴۷۵)*
*(3)* حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :
میں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کون سا کلام اللّٰہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ ارشاد فرمایا ’’وہ کلام جسے اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لئے پسند فرمایا ہے (اور وہ یہ ہے) ’’سُبْحَانَ رَبِّیْ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیْ وَبِحَمْدِہٖ‘‘
*(مستدرک، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ، احبّ الکلام الی اللّٰہ سبحان ربّی وبحمدہ،۲ / ۱۷۶، الحدیث:۱۸۸۹)*
*اسمِ الٰہی کی تجلی کا اثر⬅*
یاد رہے کہ ہر اسمِ الٰہی کی تجلی عامل پر پڑتی ہے یعنی جو جس اسمِ الٰہی کا وظیفہ کرتا ہے اُس میں اُسی کا اثر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے چنانچہ جو *’’یَا سُبْحَانُ‘‘* کا وظیفہ کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے گناہوں سے پاک فرمائے گا۔
جو ’’یَا غَنِیُّ ‘‘ کا وظیفہ پڑھے تو وہ خود غنی اور مالدار ہوجائے گا۔
اسی طرح جو یَاعَفُوُّ ، یَا حَلِیْمُ کا وظیفہ کرے تو اس میں یہی صفات پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی۔
🏮 *حکایت* 🏮
اسی مناسبت سے یہاں ایک حکایت ملاحظہ ہو،
چنانچہ حضرت ابو بکر بن زیَّات رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ:
ایک شخص حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :حضور! آج صبح ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے اور میں سب سے پہلے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس یہ خبر لے کر آیا ہوں تاکہ آپ کی برکت سے ہمارے گھر میں خیر نازل ہو ۔ حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:
’’اللّٰہ تعالیٰ تمہیں اپنے حفظ واَمان میں رکھے ۔یہاں بیٹھ جاؤ اور سو مرتبہ یہ الفاظ کہو ’’مَا شَاءَ اللّٰہُ کَانَ‘‘یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جو چاہا وہی ہوا۔ اس نے سو مرتبہ یہ الفاظ دہرا لئے تو آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’ دوبارہ یہی الفاظ کہو ۔ اس نے سو مرتبہ پھر وہی الفاظ دہرائے۔ آپ نے فرمایا ’’پھر وہی الفاظ دہراؤ۔ اس طرح پانچ مرتبہ اسے (وہ الفاظ دہرانے کا ) حکم دیا۔ اتنے میں ایک وزیر کی والدہ کا خادم ایک خط اور تھیلی لے کر حاضر ہوا اور کہا:
’’اے معروف کرخی ! رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ،اُمِّ جعفر آپ کو سلام کہتی ہے ، اس نے یہ تھیلی آپ کی خدمت میں بھجوائی ہے اور کہا ہے کہ آپ غُرباء و مساکین میں یہ رقم تقسیم فرما دیں ۔
یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قاصد سے فرمایا ’’ رقم کی تھیلی اس شخص کو دے دو، اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے۔ قاصد نے کہا: یہ 500 درہم ہیں ، کیا سب اسے دے دوں ؟ آپ نے فرمایا ’’ہاں !ساری رقم اسے دے دو، اس نے پانچ سو مرتبہ ’’مَا شَاءَ اللّٰہُ کَانَ‘‘ کہا تھا۔
پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
’’ یہ پانچ سو درہم تمہیں مبارک ہوں ، اگر اس سے زیادہ مرتبہ کہتے تو ہم بھی اتنی ہی مقدار مزید بڑھا دیتے۔ ( جاؤ !یہ رقم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو)۔
( عیون الحکایات، الحکایۃ التاسعۃ بعد الثلاث مائۃ، ص۲۷۷)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرسل⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجــدی 📱917798520672+
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
0 تبصرے
اپنا کمینٹ یہاں لکھیں